Prostitution on Pakistan’s TV Channels

نہ صرف پاکستان بلکہ بیشتر نام نہاد مسلمان ممالک کے مرد حضرات شراب و کباب کے رسیا ہیں اور جو چالاک خواتین مردوں کی ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتی ہیں وہ شارٹ ٹرم میں تو بلندیوں کی انتہاء تک تو جا پہنچتی ہیں لیکن انجام انکا دردناک رونے دھونے سے بھرپور ہی ہوتا ہے۔

جہاں تک پاکستانی ٹی وی چینلز کا تعلق ہے، انکے پاس کوئی واضح ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی بین الاقوامی میڈیا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور پروفیشنل ٹیم، یہی وجہ ہے کہ انڈین چینلز کو تو اخلاق باختہ قرار دیکر پاکستان میں بین کر دیا گیا لیکن مقامی چینلز کو بے حیائی عام کرنے کا ٹاسک مل گیا جو سنجیدہ ترین موضوع پر بھی اناڑی رپورٹر اور نیوز کاسٹر کی خبرنشر کرتے ہوئے انڈین گانا بیک گراؤنڈ میں بجانا ناظرین کو متوجہ کرنے کیلئے اپنی مجبوری سمجھتے ہیں۔

جہاں تک اس بات کا  تعلق ہے کہ بیشتر ٹی وی چینل جسم فروش خواتین سے متعلق پروگرام کیوں پیش کرتے ہیں، اسکی وجہ سادہ سی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں داخلے اور ترقی کی چابی ماڈرن جسم فروش خواتین کے پاس ہی ہے جو اپنی اداؤں سے نہ صرف سینئیرز کا دل لبھانا جانتی ہیں بلکہ انہیں سیاستدانوں کی کرپشن کی حرام کی کمائی  میں سے اپنا حصہ لینا بھی بخوبی آتا ہے ۔ ہمیشہ ٹی وی چینلز سے نہائت قابل قابل مرد پروفیشنلز کو نکال باہر کردیا جاتا ہے لیکن یہ خواتین مخصوص ہنریافتہ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بچا لیتی ہے، جو خواتین کمپرومائز نہیں کرتی، وہ چاہے لاکھ ٹیلینٹڈ ہوں، قابل ہوں، انکا مقدر  بالآخر ایگزٹ ڈور ہی ہوتا ہے۔

پاکستانی نوجوان نسل کو اخلاقی پستی میں گرنے سے بچانے کیلئے نہایت ضروری ہے کہ انہیں ٹی وی سکرین پر چمکتی دمکتی گلیمرس دنیا کے اداکاراؤں کی ذاتی زندگی سے روشناس کرایا جائے،

آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ وینا ملک دنیا بھر میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑنے کے باوجود اپنے لئے ایک ایسے مرد تلاش کرنے میں ناکام ہے جو اسے قبول کرلے، دوسری طرف کترینہ کیف بھی اپنی دو ڈیٹس کی ناکامی کے بعد اپنی ماں سے ارینجڈ میرج کا کہہ کر نیک پروین بی بی ثابت کرنا چاہ رہی ہے، ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا گیا ہے کہ نوسو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔

پاکستانی میڈیا کی نام نہاد معزز خواتین کا بھی ایسا ہی حال ہے جو اپنی قابلیت سے نہیں بلکہ اپنی اداؤں سے میڈیا میں اِن ہیں، شارٹ کٹ کی خاطر اپنے کولیگز سے تعلقات رکھتی ہیں ۔  ٹی وی سکرین پر عوام کو اخلاقی بھاشن دینے والے ٹی وی اینکرز نہ صرف  ان سے خفیہ شادیاں رچاتے ہیں بلکہ درجنوں نو وارد جونئیر خواتین صحافیوں پر دستِ شفقت رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جب ایسے پست کیریکٹر کے لوگ میڈیا میں ہونگے تو وہ یہ ثابت کرنے کیلئے حمام میں سب ننگے ہیں، جسم فروش خواتین پر ہی پروگرام پیش کرکے عوام کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی زندگی کو بھی جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستانی ٹی وی نے بلا شبہ عوام کو بہت شعور دیا لیکن جو شعور نہیں دے سکے وہ یہ ہے کہ نامحرم سے غیرضروری روابط جسمانی، روحانی، اخلاقی، مذہبی، نفسیاتی، معاشرتی، ہر طرح سے انسان کو کمزور کرتے ہیں اور اسکو بزدل بناتے ہیں، ڈر ڈر کر جینے پر مجبور کرتے ہیں۔ اور پلیز  مذہبی لوگوں کو سعودی اور ایرانی اپپورٹڈ حلوہ کھا کر قیلولہ فرمانے دیجیے، انکے بقول یہ سب تو امریکا کی سازش ہے، بھارت چاہتا ہی پاکستانیوں کو کمزور کرنا ہے اور اسرائیل کا ہاتھ ہے ان سب خرافات میں۔۔

ڈ  بھی اپنے سوئے ہوئے ضمیر کو مزید سلائیے، ٹی وی پر جسم فروشی کے آن ائر اور آف آئر زملاحظہکیجیے اور دنیا فتح تو ہو نہیں سکتی ہم پاکستانیوں سے نہ ہی ترقی یافتہ دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں،  اپنی ہی ہم مذہب کلمہ گو صنفِ نازک کو مسل کر اپنی مردانگی پر فخر کر لینا چاہیے۔

کل مورخہ 27 جون 2012ء پر ڈان نیوز پر جسم فروش عورتوں کے انٹرویو لائیو دکھائے گئے۔ پروگرام کا عنوان تھا۔ جسم فروشی شوق یا مجبوری۔ اس طرح کے پروگرام آئے روز دیگر چینلوں پر بھی نشر ہوتے رہتے ہیں۔ ان پروگرام کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی نجی چینل گھروں میں بیٹھی غریب خواتین کو جسم فروشی کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ آخر جسم فروش عورتوں کے انٹرویو اتنے ضروری کیوں ہیں کہ آئے روز کوئی نہ کوئی چینل ان عورتوں کو مظلوم بنا کر پیش کررہا ہے؟ اسلام میں زناء کی سزا شادی شدہ ہونے کی صورت میں سنگسار کرنا جبکہ غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں 100 کوڑے ہیں۔ ان پروگراموں میں خواتین کھلے عام یہ اقرار کرتی ہیں کہ وہ جسم فروشی (زناء) کرتی رہی ہیں۔ کروڑوں لوگ ان پروگرام کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب کوئی بھی مرد و عورت زناء کا اقرار کرلے تو اس پر اسلامی قوانین کے مطابق حد جاری ہو جاتی ہے۔ اور اسلامی قوانین کے تحت جسم فروشی (زناء) کی سزا وہی ہے جو اوپر تحریر کردی گئی ہے۔ ایسے ممالک جہاں اسلامی قوانین نافذ ہیں۔ وہاں جب کوئی جوڑا باہمی رضا مندی سے زناء کرتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو سزا کے خوف سے عموماً خواتین یہ بیان دے دیتی ہیں کہ ہمارے ساتھ زبردستی زناء کیا گیا ہے۔ ہماری رضا اس میں شامل نہیں تھی۔ اس بیان کے بعدمذکورہ خاتون پر حد جاری نہیں کی جاتی۔ بے شک اس نے اپنی مرضی سے ہی زناء کیوں نہ کیا ہو۔ اسلام میں زناء کی سزا دینے کے لئے کم از کم تین متقی، پرہیزگار گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور وہ زناء کرنے والے جوڑے کو اس حالت میں دیکھیں کہ جیسے سوئی میں دھاگہ ڈالا گیا ہو۔ یہ بہت سخت شرط ہے۔ اس کو پورا کرنا یقیناًبہت مشکل ہے۔ تاہم پاکستان کے نجی چینلوں پر جسم فروش خواتین کھلے عام زناء کرنے کا اقرار بھی کررہی ہیں۔ اور ایسی خواتین کو مظلوم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جو کہ یقیناًلمحہ فکریہ ہے۔ اس مسئلے میں پاکستان کے مذہبی لوگوں نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 209 other followers

%d bloggers like this: