کیا “لاپتہ افراد” واقعی لاپتہ ہیں؟

از محمد عبد الحمید

جبگ/جیو کے حامد میر نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ میڈیا کے لوگ صرف 10 فی صد سچ بولتے ہیں، میرے سمیت۔ حامد میر ہی “لاپتہ افراد” کے معاملہ میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ اس معاملہ میں وہ کتنا سچ بول رہے ہیں؟

“لاپتہ افراد” صرف بلوچستان ہی میں کیوں ہیں؟ بات یہ ہے کہ دوسرے صوبوں میں دہشت گردی ہوتی ہے، جس میں لوگ مرتے ہیں اور زخمی ہوتے ہیں، لاپتہ نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں لاپتہ ہونے کی وجوہ میڈیا تلاش نہیں کرتا کیونکہ نہ مالک اس کی اجازت دیتے ہیں، اور نہ انھیں ڈالر دینے والا امریکہ۔

بلوچستان میں نہ حقوق کا مسئلہ ہے اور نہ احساس محرومی کا۔ حقوق کا مسئلہ تو موجودہ حکومت نے 18 ویں ترمیم سے ختم کر دیا۔ صوبوں کو اتنے اختیارات دے دیئے کہ وہ استعمال ہی نہیں کر پاتے۔ انھیں یہاں تک اختیار مل گیا کہ رشوت لے کر درسی کتابوں میں جو چاہیں ملک دشمن مواد شامل کر دیں (جیسے مشرقی پاکستان میں ہوا کرتا تھا) اور اپنی جیبیں بھر کر تیل، گیس اور معدنیات نکالنے کے ٹھیکے جن غیرملکی کمپنیوں کو چاہیں دے دیں۔

احساس محرومی بھی لوٹ مار کا بہانہ ہے۔ پچھلے سالوں میں سینکڑوں بلین روپے بلوچستان کو دیئے گئے۔ موجودہ حکومت نے صرف اس سال 145 بلین روپے دیئے۔ وہ کہاں گئے؟ صوبہ کی کل آبادی اکیلے ضلع لاہور سے بھی کم ہے لیکن احساس محرومی ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔

دراصل، یہ سب امریکہ کے کہنے پر تراشے گئے بہانے ہیں۔ امریکہ بلوچستان کو علیحدہ کرا کے نیا ملک بنانا چاہتا ہے، جیسے اس نے سوڈان کا جنوبی حصہ کاٹ کر ایک نیا ملک، جنوبی سوڈان، بنوا دیا۔ (سوڈان کا 97 فیصد تیل جنوبی سوڈان سے نکلتا ہے۔) بلوچستان میں تیل، گیس اور معدنیات کے ساتھ امریکہ کے اور کئی مفادات ہیں۔ افغانستان سے نکل کر یہاں بیٹھنا چاہتا ہے، چین کو گوادر سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے، پاکستان اور ایران کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے اور آبنائے ہرمز کے دہانے کو کنٹرول کرنا ہے (تاکہ جنگ کی صورت میں دشمنوں کو خلیج فارس سے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت وغیرہ سے تیل کی سپلائی روکی جا سکے)۔

چنانچہ امریکہ نے بلوچستان میں اسلم رائیسانی کو وزیر اعلی بنوایا، جسے حکومت سے کوئی دلچسپی نہیں اور جس کا چھوٹا بھائی، لشکری رائیسانی، امریکی مصنف رون سسکنڈ کے مطابق امریکی، برتانوی اور فرانسیسی خفیہ اجنسیوں کا وظیفہ خوار ہے۔ (اب وہ پی پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہے)۔ ایک کے سوا تمام ارکان اسمبلی کابینہ میں ہیں تاکہ خرابیوں پر کوئی انگلی نہ اٹھائے جبکہ وزیر اعلی سارا وقت اسلام آباد میں رہتا ہے۔ (اس کی سوچ ہے کہ وزیر اعلی وزیر اعلی ہوتا ہے، چاہے کوئٹہ میں رہے یا اسلام آباد میں۔)

بلوچستان سے فوج بلا لی گئی، پتہ نہیں کس مصلحت کے تحت، جبکہ ماضی میں ہر یورش فوجی کاروائی سے ہی دبائی گئی۔ ملک دشمنوں کے خلاف ساری کاروائی ایف۔ سی۔ (فرنٹیئر کانسٹیبلری) کے ذمہ ہے۔ وہ دہشت گردوں کو پکڑ لے تو بھی ان کے خلاف کچھ کر نہیں سکتی۔ تفتیش پولیس کا اور سزا دینا عدالتوں کا کام ہوتا ہے لیکن ان دونوں اداروں کا وجود ہی نہیں۔ صدر پرویز مشرف نے پولیس کا دائرہ کار 5 فی صد رقبہ سے بڑھا کر 100 فی صد کر دیا لیکن اسلم رئیسانی نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اب کوئٹہ کے علاقہ کو چھوڑ کر لیویز کا پھر سے راج ہے، جو سرداروں کی بھرتی کردہ ہوتی ہے جبکہ وفاقی حکومت اس کے اخراجات دیتی ہیں۔

“لاپتہ افراد” ہیں کون؟ میڈیا پتہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہ لوگ کون ہیں، ان کا اور ان کے کنبوں کا کیا پس منظر ہے، ان کی آمدنی کہاں سے ہوتی ہے۔ اکثر کے تو پتے بھی معلوم نہیں۔ صرف تعداد بڑھانے کے لیئے ان کے نام لکھا دیئے گئے۔ جن کے پتے معلوم ہوئے وہ نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہو چکے تھے، افغانستان جا چکے تھے، کراچی میں کاروبار کرتے تھے یا ویسے ہی روپوش تھے۔ جو امریکی اور ہندوستانی ایجنٹ مقابلہ میں ہلاک ہو جاتے ہیں وہ “لاپتہ” کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ کچھ واقعی تحویل میں بتائے جاتے ہیں، ان سے تفتیش ہو رہی ہے۔ اگر مجرم ہونے کا ثبوت مل بھی جائے تو صوبائی حکومت نہ اپنی تحویل میں لیتی ہے، نہ مقدمہ چلاتی ہے۔ در حقیقت یہ وہ افراد ہیں، جو امریکی سرپرستی میں علیحدگی کے لیئے دہشت گردی کرتے ہیں اور جنھیں رہا کرانے کے لیئے امریکہ بے چین رہتا ہے۔ امریکہ سے امداد اور ہندوستان سے تربیت لے کر کرایہ کے لوگوں سے دہشت گردی کرائی جا رہی ہے۔ امرکی ایجنٹوں کو 500 ڈالر (تقریبا 50 ہزار روپے) مہینہ تک وظیفہ ملتا ہے۔ بگتی، مری، مینگل وغیرہ چند قبائل کے سردار ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ جو یہاں ہیں وہ بھی امریکی سرپرستی میں عیش کر رہے ہیں۔ ایک زین بگتی جب افغانستان کی طرف سے اسلحہ لاتے ہوئے پکڑا گیا تو اس نے پہلا فون امریکی سفارت خانہ کو کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں جب علیحدگی کی تحریک زوروں پر تھی تو بی۔ بی۔ سی۔ کو اس کے لیڈر جیری ایڈمز کا بیان اس کی اپنی آواز میں سنانے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں علیحدگی پسند سرداروں کے گھنٹے گھنٹے کے انٹرویو نشر ہوتے ہیں۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں “لاپتہ افراد” کے لیئے ہونے والا پراپیگنڈہ صحیح ہے، ان سے زیادہ بھولا کوئی نہیں۔ صحافیوں کو ڈالر ملتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ شور مچائو، چینل اور اخبار مالکوں کو ڈالر ملتے ہیں کہ علیحدگی پسندوں کے بار بار انٹرویو کرائو، غیرسرکاری تنظیموں کو ڈالر ملتے ہیں کہ مظاہرے کرائو اور دھرنے دو۔ رہی وفاقی حکومت تو اسے ملک دشمنوں کے خلاف کچھ کرنے کی فرصت کہاں۔ رحمان ملک صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ “غیرملکی ہاتھ ملوث ہے۔” اس نامحرم کا نام نہیں لیتے اور نہ اس کا ہاتھ مروڑتے ہیں۔

سپریم  کورٹ کا رویہ بھی حیران کن ہے۔ یا تو اسے حقائق کا علم نہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لیا جا رہا ہے۔ یا پھر سارا جوش و خروش امریکہ کو خوش کرنے کے لیئے ہے۔ فوجی اداروں پر لعن طعن بھی شائد اسی لیئے ہے کہ امریکہ کا ایک بڑا مقصد ہماری فوج کو بدنام کرنا بھی ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ میڈیا سچ تلاش نہیں کرتا، عدلیہ سچ سنتی نہیں اور فوج سچ بولتی نہیں کہ حکومت کے لیئے پریشانی پیدا نہ ہو۔ پھر

        خداوندا، ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں

 

مزید معلومات کے لیئے امریکی مصنف کا مضمون دیکھیں:

Balochistan: Crossroads of Proxy War

by Eric Draitser

http://www.rifah.org/site/balochistan-crossroads-of-proxy-war/administrative-map-of-baluchistan-province/

الله حافظ!